مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ امریکہ میں ایک ایسا نظریہ موجود ہے جس کے لیے ایران کے سیاسی نظام کی تبدیلی اہم نہیں، بلکہ اس کا اصل ہدف زیرِ زمین اور زمینی وسائل کی لوٹ مار ہے، چاہے کوئی بھی سیاسی نظام برسرِ اقتدار ہو۔
منگل کے روز تہران کے فلسطین اسکوائر میں واقع امام صادقؑ مسجد میں شہید فرج اللہ شوشتری کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی نیکزاد نے کہا کہ صہیونی ریاست کی بنیاد ہی اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور اور منہدم کرنے پر ہے، اسی لیے وہ مسلسل ایرانی قوم کے خلاف سازشیں کرتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید جنرل نورعلی شوشتری وحدت کی علامت تھے۔ وہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں خدمات انجام دے رہے تھے اور عوام میں بے حد مقبول تھے، مگر دشمنوں نے وہاں حقیقی امن و امان کے قیام کی اجازت نہیں دی۔ نیکزاد نے مزید کہا کہ شہید فرج اللہ شوشتری، شہید جنرل شوشتری کے فرزند تھے، جو ثقافتی اور دینی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کی خدمت کر رہے تھے۔
نائب اسپیکر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ایران میں استحکام، سلامتی اور عوامی خوشحالی کے خلاف ہے۔ جب وہ فوجی حملوں کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کو جھکانے میں ناکام ہو گئے تو اب بدامنی اور انتشار پھیلانے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ملک کے اندر اپنے معاشی مسائل حل کر لیں تو ہم ایک مضبوط طاقت بن سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس آزادی، خودمختاری، وقار، غیرت اور شہداء جیسی عظیم نعمتیں موجود ہیں۔ ہماری کمزوری صرف معاشی میدان میں ہے، اور دشمن اسی نکتے سے فائدہ اٹھا کر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔
علی نیکزاد نے کہا کہ اسلام پر قائم رہنے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور ہم وہ قیمت چکا رہے ہیں۔ اگرچہ ہم اپنے شہداء کی جدائی پر غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہداء کی روحوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور دشمن کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ اگر وہ ایک کمانڈر کو شہید کریں گے تو دوسرے کمانڈر سامنے آ جائیں گے، اسلام کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہو گا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ دشمنی، عداوت اور کینہ دشمنوں کی فطرت ہے اور یہ ہمیشہ رہے گی، کیونکہ وہ شیطانی سوچ رکھتے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران حق پر قائم ہے۔
آپ کا تبصرہ